کیف،25؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) روس کے یوکرین پر حملےکو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے۔ اب تک روس نہ تو یوکرین پر پوری طرح قبضہ کر سکا ہے اور نہ اس کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے اپنی بات منوا سکا ہے۔ البتہ اس موقع پر زیلنسکی نے دنیا بھر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ روسی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر اتریں اور اس جنگ کو ختم کرنے کی راہ ہموار کریں۔ یاد رہے کہ روس نے گزشہ ۲۴؍ فروری کو یوکرین پر حملہ کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ یوکرین نیٹو کی رکنیت حاصل کرنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے نیٹو کی افواج کے روسی سرحد پر تعینات ہونے کا خدشہ تھا۔
ہر چند کہ یہ حملہ ہوا ہی یورپی ممالک کی وجہ سے تھا لیکن ان ممالک نے یوکرین کی کوئی بھی فوجی مدد نہیں کی۔ اس بات کی ناراضگی ایک بار پھر ولادیمیر زیلنسکی کے خطاب میں نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہمیں معلوم ہے کہ روس نے پہلے ہی اپنے مفادات کیلئے لابنگ کرنی شروع کر دی ہے اور یہ مفادات جنگ سے متعلق ہیں۔ اس کیلئے اس نے چند شراکت داروں ( نیٹو کے اراکین) کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ بعض ممالک نے روس پر پوری طرح پابندی نہیں لگائی ہے ۔ زیلنسکی کا اشارہ انہی ’شراکت داروں‘ کی طرف تھا۔ انہوں نےبرسلز میں منعقد ہونے والے نیٹو کے اجلاس کا بھی تذکرہ کیا ۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ’’ اس اجلاس میں دوست اور دغاباز دونوں سامنے آ جائیں گے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ روس اپنی معاشی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یوکرین کے حلیفوںکو اس جنگ میں مداخلت سے روک رہا ہے۔
یاد رہے کہ یورپی ملک بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں 3 اجلاس منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ ایک نیٹو کا، دوسرا یورپی یونین کا اور تیسرا جی ۷؍ ممالک کا۔ یہ تینوں اجلاس علاحدہ علاحدہ ہوں گے لیکن ان میں یوکرین جنگ کے تعلق سے ہی بات کی جائے گی۔ ان تینوں اجلاس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ولادیمیر زیلنسکی بھی خطاب کریں گے۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’’ ان تینوں اجلاس میں ہم اپنا ٹھوس موقف پیش کریں گے۔ اور ہم دیکھیں گے کون ہمارا دوست ہے اور کون دغاباز۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم دیکھیں گے کہ کون ہمارا ساتھ دیتا ہے اور کون ہمیں پیسوں کیلئے دھوکہ دیتا ہے۔‘‘ امکان ہے کہ زیلنسکی اس اجلاس میں یوکرین کیلئے جدید اسلحہ اور جنگی طیاروں کا مطالبہ کریں۔ یاد رہے کہ روس نے یوکرین پر حملہ امریکہ اور یورپی ممالک کے سبب ہی کیا ہے لیکن ان تمام ممالک نے روس کے خلاف اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور ماسکو پر مکمل پابندی سے بھی اجتناب کیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سےخود ان کا نقصان ہونےکا خدشہ تھا۔
عالمی برادری سے مایوس زیلنسکی نے دنیا بھر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین جنگ کو بند کروانے کیلئے سڑکوں پراتریں۔ انگریزی میں کی گئی اس اپیل میں زیلنسکی نے کہا کہ ’’ اپنے گھروں، دفتروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے باہر نکلیں اور یوکرین اور اس کی آزادی کی حمایت کریں۔ یاد رہے کہ یوکرینی صدر کو عوام سے اپیل اسلئے کرنی پڑ رہی ہے کہ ان کے اپنے حلیف جن پر انہیں سب سے زیادہ بھروسہ تھا انہوں نے اس موقع پر ان کی توقع کے مطابق مدد نہیں کی۔ فرانس جو کہ خود کو یورپ کا لیڈر گردانتا ہے اس نے اب تک اپنی کمپنیوں کو روس میں کاروبار بند کرنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ دوسرا امریکہ کے بعد سب سے طاقتور کہلانے والے اسرائیل نے یوکرین کو پیگاسس سافٹ ویئر دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے روس ناراض ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ ایک ماہ بعد بھی روس کی جانب سے یوکرین کی راجدھانی کیف کے علاوہ ، ماریوپل، خرسون اور دیگر شہروں میں بمباری کی جا رہی ہے۔ ان میں سے بیشتر مقامات پر روس کا قبضہ ہو چکا ہے۔ جبکہ لاکھوں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ مہلوکین کی تعداد اب ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔